عشر عشیر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دسویں حصے کا دسواں حصہ، سواں حصہ، مجازاً تھواڑ سا حصہ، بہت ہی کم۔ "آدھی رات ہو چکی تھی لیکن ابھی تک میری سکریپ بک کا عشر عشیر بھی ختم نہ ہوا تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٢٩٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عشر' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگانے سے کے بعد عربی ہی سے اسم صفت 'عشیر' لگانے سے مرکب 'عشر عشیر' بنا۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دسویں حصے کا دسواں حصہ، سواں حصہ، مجازاً تھواڑ سا حصہ، بہت ہی کم۔ "آدھی رات ہو چکی تھی لیکن ابھی تک میری سکریپ بک کا عشر عشیر بھی ختم نہ ہوا تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٢٩٣ )

جنس: مذکر